Skip to content
LinguaCommons
← Language Guides

پشتو (پښتو) — اردو بولنے والوں کے لیے

A1.1Beginner · Foundations

1. پشتو کیا ہے؟

پشتو (پښتو) افغانستان کی دو سرکاری زبانوں میں سے ایک ہے اور پاکستان کی ایک بڑی علاقائی زبان بھی، جسے اندازاً 35 سے 55 ملین لوگ بولتے ہیں — جن میں سے بیشتر پشتون ہیں جو افغانستان اور پاکستان کی سرحد کے دونوں اطراف آباد ہیں۔1 اردو بولنے والوں کے لیے یہ زبان کئی لحاظ سے جانی پہچانی محسوس ہوگی۔

البتہ ایک بنیادی فرق یاد رکھیں: اردو ایک ہند آریائی (Indo-Aryan) زبان ہے، جبکہ پشتو ایک ایرانی (Iranian) زبان ہے — مشرقی ایرانی شاخ سے، جو فارسی کی دور کی رشتہ دار ہے۔1 اس لیے رسم الخط، گرامر کا ڈھانچہ اور بہت سی عادتیں مشترک ہیں، مگر بنیادی الفاظ اکثر مختلف ہوں گے۔

اردو بولنے والوں کے لیے سب سے بڑی خوشخبری

اردو بولنے والے کو پشتو سیکھنے میں انگریزی بولنے والوں کے مقابلے میں نمایاں برتری حاصل ہے: آپ پہلے سے فارسی-عربی رسم الخط دائیں سے بائیں پڑھتے ہیں، آپ کی زبان میں پہلے سے مذکر/مؤنث کی تمیز موجود ہے، جملے کی ترتیب فاعل-مفعول-فعل (SOV) آپ جیسی ہے، اور سب سے اہم — اردو کی ”نے“ والی ساخت آپ کو پشتو کے ergative نظام کی طرف ایک قدرتی پل فراہم کرتی ہے۔

A1.2Beginner · Building Basics

پشتو کیوں سیکھیں؟

  • ایک اہم علاقائی زبان — پشتو وسطی اور جنوبی ایشیا کے ایک بڑے اور تاریخی طور پر اہم خطے کو سمجھنے کی کنجی ہے، اور پاکستان میں کروڑوں لوگ اسے بولتے ہیں۔
  • بھرپور زبانی شاعری — لنڈئی (دو مصرعوں کی نظم) سے لے کر کلاسیکی صوفی کلام تک، پشتو ادب سننے اور پڑھ کر سنانے کے لیے بنا ہے۔
  • ایک منفرد گرامر — جنس، ergativity اور retroflex آوازیں پشتو کو فکری طور پر دلچسپ بناتی ہیں۔
  • ثقافتی گہرائی — یہ زبان پشتونوالی سے جدا نہیں، جو مہمان نوازی، غیرت اور ضابطۂ اخلاق کی روایت ہے۔

رسم الخط (فارسی-عربی)

پشتو ایک ترمیم شدہ فارسی-عربی رسم الخط میں لکھی جاتی ہے — یعنی وہی الفبا جسے آپ اردو میں استعمال کرتے ہیں، مگر اس میں کچھ اضافی حروف شامل کیے گئے ہیں جو پشتو کی خاص آوازوں کے لیے ہیں، خاص طور پر retroflex حروف۔2 یہ دائیں سے بائیں چلتی ہے، حروف آپس میں جُڑتے ہیں، اور بڑے/چھوٹے حروف کا فرق نہیں ہوتا — بالکل اردو کی طرح۔

اچھی خبر یہ ہے کہ اردو کے retroflex حروف ٹ، ڈ، ڑ پشتو کے ٹ، ډ، ړ سے براہِ راست میل کھاتے ہیں۔ نیچے دیے گئے حروف زیادہ تر اردو والوں کے لیے نئے ہیں:

حرفنقل حرفیآواز
څts/ts/ — جیسے انگریزی cats میں ’ts‘ (اردو میں نہیں)
ځdz/dz/ — ’dz‘ کی آواز (اردو میں نہیں)
ښx̌ / ṣ̌/x/ ~ /ʂ/ — لہجے کے مطابق بدلتی ہے (نیچے دیکھیں)
ږǵ / ẓ̌/ɡ/ ~ /ʐ/ — لہجے کے مطابق بدلتی ہے
ړ/ɭ̆/ — retroflex لپکتی ’ر‘ (اردو کی ڑ کے قریب)
ڼ/ɳ/ — retroflex ’ن‘
A2.1Elementary · Everyday Language

تلفظ: retroflex آوازیں اور لہجے

retroflex حروف — جن میں زبان کی نوک پیچھے تالو کی طرف مُڑتی ہے — پشتو کے تلفظ کی پہچان ہیں۔ اردو والوں کے لیے یہ بڑی سہولت ہے، کیونکہ آپ ٹ، ڈ، ڑ پہلے ہی بولتے ہیں۔ البتہ دو حروف (ښ اور ږ) مختلف لہجوں میں مختلف ادا ہوتے ہیں: شمال مشرقی ”پشتو“ (مثلاً یوسفزئی) میں نرم، اور جنوب مغربی قندھاری ”پختو“ میں مکمل retroflex — اسی لیے زبان کا نام ’پشتو‘ اور ’پختو‘ دونوں سنائی دیتا ہے۔

پہلے الفاظ اور سلام دعا

پشتونقل حرفیاردو مطلب
سلامsalāmسلام / ہیلو
ستړی مه شېstǝṛay mǝ sheایک دعائیہ سلام (لفظی: تھکو نہیں)
څنګه یې؟tsǝnga ye?آپ کیسے ہیں؟
مننهmananaشکریہ
هو / نهho / naہاں / نہیں
زما نوم … دیzmā num … dayمیرا نام … ہے
بخښنه غواړمbakhǝna ghwāṛamمعذرت / معاف کیجیے
د خدای پامانda khudāy pāmānاللہ حافظ
A2.2Elementary · Expanding Range

ایک سے دس تک گنتی

ایک سے دس: یو (yaw)، دوه (dwa)، درې (dre)، څلور (tsalor)، پنځه (pinẓǝ)، شپږ (shpaẓ)، اووه (owǝ)، اته (atǝ)، نهه (nǝh)، لس (las)۔ اردو کی گنتی (ایک، دو، تین…) سے یہ الفاظ بالکل مختلف ہیں کیونکہ پشتو ایرانی زبان ہے — البتہ ’درې‘ اور ’dre/three‘ جیسے چند الفاظ مشترکہ ہند یورپی جڑ کی جھلک دکھاتے ہیں۔

جنس اور اسم — اردو جیسا، مگر زیادہ سختی سے

  • ہر اسم مذکر یا مؤنث ہے، اور صفت اور فعل اس کے مطابق بدلتے ہیں — بالکل اردو کی طرح، جہاں ’اچھا لڑکا‘ اور ’اچھی لڑکی‘ کا فرق آپ جانتے ہیں۔
  • اسم direct یا oblique حالت میں آتا ہے؛ oblique حالت حروفِ ربط کے بعد اور بعض گرامری کرداروں میں استعمال ہوتی ہے — یہ اردو کے ’لڑکا → لڑکے‘ والے oblique تبدیلی سے ملتی جلتی سوچ ہے۔
  • پشتو حروفِ جر (prepositions) اور حروفِ بعد (postpositions) دونوں استعمال کرتی ہے، اور کبھی کبھی اسم کو دونوں طرف سے گھیر لیتی ہے (circumposition) — اردو زیادہ تر postpositions (’کے ساتھ‘، ’میں‘) پر چلتی ہے۔
B1.1Intermediate · Independent Use

جملے کی ترتیب اور مطابقت

بنیادی ترتیب فاعل-مفعول-فعل (SOV) ہے، یعنی فعل جملے کے آخر میں آتا ہے — بالکل اردو کی طرح۔ حالِ حاضر میں فعل فاعل کے ساتھ شخص، تعداد اور (بعض صورتوں میں) جنس میں مطابقت رکھتا ہے۔ اصل پیچیدگی — اور پشتو کی سب سے دلچسپ خصوصیت — ماضی میں سامنے آتی ہے۔

فارسی اور عربی کے ذریعے ذخیرۂ الفاظ بڑھانا

صدیوں کے رابطے کی وجہ سے پشتو فارسی (دری) اور اس کے ذریعے عربی کے ساتھ الفاظ کی ایک بڑی تہہ مشترک رکھتی ہے۔ چونکہ اردو میں بھی یہی فارسی-عربی الفاظ بکثرت موجود ہیں، اس لیے بہت سے تجریدی اور ثقافتی الفاظ آپ کو پہلے سے مانوس لگیں گے — یہ پڑھنے کی رفتار بڑھا دیتا ہے۔

B1.2Intermediate · Connected Language

ماضی میں split ergativity — اردو کی ”نے“ والی ساخت کا پل

پشتو کی سب سے نمایاں گرامری خصوصیت split ergativity ہے۔ حال اور دیگر غیر ماضی زمانوں میں فعل فاعل کے ساتھ مطابقت رکھتا ہے — جانی پہچانی صورت۔ مگر ماضی کے مکمل (perfective) افعال میں متعدی فعل فاعل کے بجائے مفعول کے ساتھ مطابقت رکھتا ہے، اور فاعل oblique حالت میں آتا ہے۔3

اردو بولنے والوں کے لیے یہ تصور نیا نہیں! اردو میں بھی ماضی مطلق کے متعدی جملوں میں فاعل پر ”نے“ لگتا ہے اور فعل مفعول کے مطابق بدلتا ہے: ’لڑکے نے کتاب پڑھی‘ بمقابلہ ’لڑکے نے خط پڑھا‘ — یہاں فعل (پڑھی/پڑھا) کتاب/خط کے مطابق ہے، نہ کہ لڑکے کے۔3 پشتو میں بھی بالکل یہی منطق کام کرتی ہے۔ یہ آپ کی سب سے بڑی برتری ہے: جو چیز انگریزی یا فارسی بولنے والے کو الٹی لگتی ہے، وہ آپ کے لیے فطری ہے۔

B2.1Upper-Intermediate · Fluency & Nuance

2. عام غلطیاں

  • بنیادی الفاظ کو اردو جیسا سمجھ لینا — رسم الخط اور گرامر مشترک ہیں، مگر پشتو ایرانی زبان ہے، اس لیے روزمرہ کے بنیادی الفاظ (پانی، آنا، جانا) اکثر بالکل مختلف ہیں۔ ہر لفظ نیا یاد کریں۔
  • نئے حروف کو نظر انداز کرنا — ښ، ږ، څ، ځ اردو میں نہیں؛ انھیں اردو کے قریب ترین حرف سے بدلنا غلط فہمی پیدا کرتا ہے۔
  • جنس کی مطابقت بھول جانا — اگرچہ اردو میں جنس ہے، پشتو میں مذکر/مؤنث کی تقسیم مختلف ہو سکتی ہے؛ ہر اسم اس کی جنس کے ساتھ یاد کریں۔
  • ماضی میں فاعل کے ساتھ مطابقت کرنا — یاد رکھیں کہ اردو کی ’نے‘ والی منطق کی طرح، پشتو میں بھی ماضی کا متعدی فعل مفعول کے ساتھ چلتا ہے۔
  • ایک ہی معیاری تلفظ فرض کرنا — ښ اور ږ قندھاری اور شمال مشرقی لہجوں میں مختلف ہیں۔
B2.2Upper-Intermediate · Consolidation

3. سیکھنے کے وسائل

  • Britannica — Pashto languagebeginnerپشتو کے خاندان، گرامر اور رسم الخط کا علمی تعارف (انگریزی میں)۔
  • CeLCAR (Indiana University) — Pashtoall levelsیونیورسٹی کا زبان پورٹل — پشتو کی آوازوں، رسم الخط اور گرامر پر مواد۔
  • Omniglot — Pashtobeginnerفارسی-عربی الفبا اور اس کے اضافی پشتو حروف، نمونہ جملوں کے ساتھ۔
  • Forvo — Pashto pronunciationsall levelsمقامی بولنے والوں کی آواز — retroflex حروف اور لہجوں کے فرق کے لیے مفید۔

4. ثقافت و سیاق

لنڈئی اور شعرا

پشتو کی سب سے محبوب لوک صنف لنڈئی ہے — دو مصرعوں کا گیت، اکثر گمنام اور بارہا خواتین کا تخلیق کردہ، جو محبت، غم یا للکار کو چند ہجوں میں سمو دیتا ہے۔ کلاسیکی شعرا جیسے خوشحال خان خٹک (سترہویں صدی) اور صوفی شاعر رحمان بابا آج بھی زبان زدِ عام ہیں۔

پشتونوالی

یہ زبان پشتونوالی سے جدا نہیں — وہ روایتی پشتون ضابطہ جو مہمان نوازی (ملمستیا)، غیرت اور مہمان کی حفاظت پر زور دیتا ہے۔ اس کے بنیادی الفاظ سمجھنا اس بات کی اصل بصیرت دیتا ہے کہ روزمرہ سماجی زندگی میں زبان کیسے برتی جاتی ہے۔

Notes & Bibliography

  1. Encyclopædia Britannica, "Pashto language," accessed June 23, 2026, https://www.britannica.com/topic/Pashto-language. [source]
  2. Center for Languages of the Central Asian Region (CeLCAR), Indiana University, "Pashto," language portal, accessed June 23, 2026, https://celcar.indiana.edu/materials/language-portal/pashto.html. [source]
  3. On Pashto's past-tense ergativity (verb agrees with the object) and the parallel aspect-conditioned ergative "ne" construction in Hindi/Urdu, see "Pashto grammar," Wikipedia, accessed June 23, 2026, https://en.wikipedia.org/wiki/Pashto_grammar. [source]

Related guides